مولانا محمد اکرم اعوان امیر تنظیم الاخوان
مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے جب افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی اور پاکستان نے بھی اسے قبول کیا۔ پہلی دفعہ افغان قوم کو غیر مسلح کیا گیا اور بندوق کے بغیر مثالی امن قائم ہوا جو ایک انتہائی درجہ کی بدامنی کے بعد ہوا اور ایک کرامت کے طور پر ہوا کہ ہر طرح کے جرائم ختم ہوگئے اگرچہ طالبان ابھی مصروف جہاد تھے اور ملک کے اندر جنگ لگی ہوئی تھی افغانستان کا بیشتر علاقہ طالبان کے زیر نگیں تھا اور ملا عمر ان کے سربراہ تھے۔
وہ جہاد کی پیداوار تھے اور ابھی تک حالتِ جہاد میں تھے مگر اسکے باوجود انہوں نے مثالی انصاف فراہم کیا جسکے نتیجے میں مثالی امن قائم ہوا گورنر اور اراکین حکومت عام آدمی کے ساتھ عوامی زندگی گزار رہے تھے اور ہر فرد کیلئے ہر وقت دستیاب تھے صرف وادی پنج شیر میں احمد شاہ مسعود ان کیخلاف نبرد آزما تھا باقی سارے ملک میں امن قائم ہو چکا تھا کہ امریکہ میں حادثہ ہوا جو 9/11 کے نام سے مشہور ہے یہ حادثہ اتنا بڑا ثابت ہوا کہ اس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا بظاہر تو ایک دھماکہ ہی تھا دو جہاز دو عمارتوں سے ٹکرائے اور وہ تباہ ہوگئیں مگر اس کا اثر برسوں بعد ابھی تک روئے زمین کو لرزہ براندام کئے ہوئے ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں